اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے جنوب لبنان کی صہیونی ریاست سے آزادی اور عید مزاحمت کی مناسبت سے بنت جبیل میں منعقدہ عظیم الشان جشن سے خطاب کرتے ہوئے اس جنگ کو اسرائیل کے خوابوں کا خاتمہ قرار دیا۔
سید حسن نصر اللہ نے کہا: صہیونیوں کے مقابلے میں ہماری کامیابی دیگر کامیابیوں کا مقدمہ تھی اور ہم ہر سال اس دن اس خوشی پر عید اور جشن مناتے ہیں تا کہ اس افتخار کو آئندہ نسلوں کے لیے منتقل کریں۔ یہ ایسے حال میں ہے کہ اس کامیابی کے اثرات ابھی بھی بھرپور جاری ہیں۔ انہوں نے کہا: یہ کامیابی صرف لبنان کی کامیابی نہیں تھی، ۲۵ مئی ۲۰۰۰ کو حاصل شدہ یہ کامیابی تمام دنیائے عرب بلکہ تمام مسلمانوں کی کامیابی تھی جس میں صہیونی امریکی پلاننگ کو نقش بر آب کیا گیا۔
حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے شام کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شام اسی طرح عربوں، مزاحمت اور عربی ممالک کے حامیوں کے لیے دھڑکتے دل کی حیثیت رکھتا ہے۔ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک دھشتگردوں کو دنیا کے مختلف ملکوں سے شام بھیج رہے ہیں تاکہ اس ملک اور مزاحمت کے مرکز کو ویراں کریں۔
انہوں نے کہا: شام کی نجات اس وقت اسی میں ہے کہ شام میں سرگرم مسلح افراد اس ملک کے باشندوں کو صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دیں تاکہ وہ خود اپنی قسمت کا فیصلہ کریں۔
حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے مسلح افراد کو ان تمام ملکوں کے لیے خطرے کے گھنٹی قرار دیا جو شام میں دھشتگرد بھیجنے میں مصروف ہیں۔
انہوں نے ان پالیسیوں کا سر انجام ناکامی قرار دیا جو شام میں مزاحمت کو ٹارگٹ بنائے ہوئے ہیں۔
سید حسن نصر اللہ نے شام میں قومی مصالحت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شام میں صدارتی انتخابات کی وجہ سے قومی مصالحت وجود میں آ رہی ہے ایسے میں تشدد پسند گروہوں کو اس ملک کی فضا خراب کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا: ملت شام ہر گز اس بات کی اجازت نہیں دے گی کہ ان کی سر زمین میں امریکی منصوبے نافذ ہوں ایک دن ایسا آئے گا کہ حقائق سامنے آنے کے بعد تمام ممالک اور علاقے کی تمام قومیں شام کے لوگوں کی ثابت قدمی اور کامیابی کو سراہیں گے۔
انہوں نے کہا: وہ لوگ جو شام میں ہماری مداخلت پر اس وقت تنقید کرتے ہیں وہ کل ہمیں آفریں کہیں گے۔
انہوں نے لبنان کے نئے صدر کے انتخاب کے حوالے سے کہا کہ اسی طرح خود لبنان میں بھی نئے صدر جمہوریہ کے انتخاب کے لیے فرصت سے استفادہ کرتے ہوئے شائستہ انتخاب کے ساتھ ہمیں امن و شانتی کی فضا کو محفوظ رکھنا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲